(آیت 32){ فَاَغْوَيْنٰكُمْاِنَّاكُنَّاغٰوِيْنَ:} یہ پانچواں جواب ہے کہ ہمارا تم پر کوئی زور نہ تھا، مگر ہم خود گمراہ تھے اور ظاہر ہے ایک گمراہ سے گمراہی کی طرف بلانے ہی کی توقع ہو سکتی ہے، کیونکہ جو گمراہ ہوتا ہے وہ لازماً یہ چاہتا ہے کہ دوسرے بھی اس جیسے ہو جائیں، تاکہ کوئی کسی کو ملامت کرنے والا نہ رہے۔ لہٰذا ہم نے تمھیں گمراہی کی دعوت ہی دینا تھی اور دی، یہ تمھارا کام تھا کہ عقل سے کام لیتے اور ہماری بات نہ مانتے۔ اب مرضی سے کفر اختیار کرنے کے بعد ہمیں اس کا ذمہ دار نہ ٹھہراؤ۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔