ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الصافات (37) — آیت 31

فَحَقَّ عَلَیۡنَا قَوۡلُ رَبِّنَاۤ ٭ۖ اِنَّا لَذَآئِقُوۡنَ ﴿۳۱﴾
سو ہم پر ہمارے رب کی بات ثابت ہوگئی۔ بے شک ہم یقینا چکھنے والے ہیں۔ En
سو ہمارے بارے میں ہمارے پروردگار کی بات پوری ہوگئی اب ہم مزے چکھیں گے
En
اب تو ہم (سب) پر ہمارے رب کی یہ بات ﺛابت ہو چکی کہ ہم (عذاب) چکھنے والے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 31) {فَحَقَّ عَلَيْنَا قَوْلُ رَبِّنَاۤ اِنَّا لَذَآىِٕقُوْنَ:} یہ پہلے تینوں جوابوں کے نتیجے میں چوتھا جواب ہے، یعنی ہم نے کفر پر قائم رکھنے کے لیے تم پر کوئی زبردستی نہیں کی، بلکہ اصل میں نہ تم ایمان والے تھے نہ ہم، جیسے ہم مجرم تھے ویسے ہی تم مجرم تھے، لہٰذا یہی انجام ہوا کہ دونوں عذاب کے مستحق ٹھہرے اور کفر وشرک کی جزا کے طور پر ہمارے رب نے جس عذاب کا وعدہ کیا تھا کہ: «‏‏‏‏لَاَمْلَـَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِيْنَ» ‏‏‏‏ [السجدۃ: ۱۳] (یقینا میں جہنم کو جنوں اور انسانوں، سب سے ضرور بھروں گا) وہ وعدہ ہم پر پورا ہو گیا۔