ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الصافات (37) — آیت 3

فَالتّٰلِیٰتِ ذِکۡرًا ۙ﴿۳﴾
پھر ان کی جو ذکر کی تلاوت کرنے والی ہیں! En
پھر ذکر (یعنی قرآن) پڑھنے والوں کی (غور کرکر)
En
پھر ذکر اللہ کی تلاوت کرنے والوں کی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 3) {فَالتّٰلِيٰتِ ذِكْرًا:} اس سے مراد بھی فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے انبیاء پر ذکر نازل کرتے ہیں اور لوگوں کے دلوں میں نیکی کا خیال ڈالتے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏فَالْمُلْقِيٰتِ ذِكْرًا (5) عُذْرًا اَوْ نُذْرًا» ‏‏‏‏ [المرسلات: ۵، ۶] پھر جو (دلوں میں) یاد (الٰہی) ڈالنے والے ہیں۔ عذر کے لیے یا ڈرانے کے لیے۔