ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الصافات (37) — آیت 25

مَا لَکُمۡ لَا تَنَاصَرُوۡنَ ﴿۲۵﴾
کیا ہے تمھیں ، تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے؟ En
تم کو کیا ہوا کہ ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے؟
En
تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ (اس وقت) تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 25) {مَا لَكُمْ لَا تَنَاصَرُوْنَ: تَنَاصَرُوْنَ } (تفاعل) اصل میں {تَتَنَاصَرُوْنَ} ہے، ایک تاء تخفیف کے لیے حذف کر دی ہے۔ باب تفاعل میں تشارک ہوتا ہے، {تَنَاصَرَ} ایک دوسرے کی مدد کرنا۔ اعمال کے محاسبے کے ساتھ ساتھ انھیں ذلیل کرنے کے لیے اور ان کے خداؤں کی بے بسی ظاہر کرنے کے لیے ایک سوال یہ ہوگا کہ تم تو کہا کرتے تھے: «‏‏‏‏نَحْنُ جَمِيْعٌ مُّنْتَصِرٌ» [القمر: ۴۴] ہم ایک جماعت ہیں جو بدلا لے کر رہنے والے ہیں۔ یا جیسا کہ تمھارا دعویٰ تھا کہ قیامت کے دن ہمارے معبود ہمیں بچا لیں گے، اب تمھیں کیا ہوا کہ تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کر رہے؟