ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الصافات (37) — آیت 165

وَّ اِنَّا لَنَحۡنُ الصَّآفُّوۡنَ ﴿۱۶۵﴾ۚ
اور بلاشبہ ہم، یقینا ہم صف باندھنے والے ہیں۔ En
اور ہم صف باندھے رہتے ہیں
En
اور ہم تو (بندگیٴ الٰہی میں) صف بستہ کھڑے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 165) {وَ اِنَّا لَنَحْنُ الصَّآفُّوْنَ:} اور ہم سب اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے صفیں بنانے والے ہیں۔ جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [أَلاَ تَصُفُّوْنَ كَمَا تَصُفُّ الْمَلاَئِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا؟ فَقُلْنَا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! وَكَيْفَ تَصُفُّ الْمَلاَئِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا؟ قَالَ يُتِمُّوْنَ الصُّفُوْفَ الْأُوَلَ، وَيَتَرَاصُّوْنَ فِي الصَّفِّ] [مسلم، الصلاۃ، باب الأمر بالسکون في الصلاۃ…: ۴۳۰۔ أبوداوٗد: ۶۶۱] تم لوگ اس طرح صفیں کیوں نہیں بناتے جس طرح فرشتے اپنے رب کے پاس صفیں بناتے ہیں؟ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! فرشتے اپنے رب کے پاس کس طرح صفیں بناتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ (پہلے) پہلی صفیں مکمل کرتے ہیں اور صفوں میں چونا گچ ہو کر کھڑے ہوتے ہیں۔