ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الصافات (37) — آیت 140

اِذۡ اَبَقَ اِلَی الۡفُلۡکِ الۡمَشۡحُوۡنِ ﴿۱۴۰﴾ۙ
جب وہ بھری ہوئی کشتی کی طرف بھاگ کر گیا۔ En
جب بھاگ کر بھری ہوئی کشتی میں پہنچے
En
جب بھاگ کر پہنچے بھری کشتی پر En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 140) ➊ { اِذْ اَبَقَ: أَبَقَ } (ض، ن، س) {إِبَاقًا وَ أَبْقًا وَ أَبَقًا، الْعَبْدُ } غلام کے اپنے مالک کے پاس سے بھاگ جانے کو کہتے ہیں۔ یونس علیہ السلام چونکہ اپنے مالک (اللہ تعالیٰ) کے حکم کا انتظار کیے بغیر اپنی قوم کو چھوڑ کر چلے گئے تھے، اس لیے ان کے جانے کے لیے { اَبَقَ } کا لفظ استعمال کیا گیا۔ یونس علیہ السلام اپنی قوم کو کب اور کیوں چھوڑ کر چلے گئے تھے؟ اس کے لیے دیکھیے سورۂ یونس (۹۸) اور سورۂ انبیاء (۸۷)۔
➋ { اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِ:} بھری ہوئی کشتی سے مراد سامان اور مسافروں سے بھری ہوئی کشتی ہے۔