ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الصافات (37) — آیت 137

وَ اِنَّکُمۡ لَتَمُرُّوۡنَ عَلَیۡہِمۡ مُّصۡبِحِیۡنَ ﴿۱۳۷﴾
اور بلا شبہ تم یقینا صبح جاتے ہوئے ان پر سے گزرتے ہو۔ En
اور تم دن کو بھی ان (کی بستیوں) کے پاس سے گزرتے رہتے ہو
En
اور تم تو صبح ہونے پر ان کی بستیوں کے پاس سے گزرتے ہو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 138،137) {وَ اِنَّكُمْ لَتَمُرُّوْنَ عَلَيْهِمْ مُّصْبِحِيْنَ …:} یعنی تم تجارت کے لیے شام و فلسطین کی طرف جاتے اور آتے ہوئے دن رات اور صبح و شام قوم لوط کی تباہ شدہ بستیوں کے پاس سے گزرتے ہو، تو کیا تم عقل نہیں کرتے اور تمھیں ان کے انجام سے عبرت نہیں ہوتی؟