ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الصافات (37) — آیت 126

اللّٰہَ رَبَّکُمۡ وَ رَبَّ اٰبَآئِکُمُ الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿۱۲۶﴾
اللہ کو،جو تمھارا رب ہے اور تمھارے پہلے باپ دادا کا رب ہے۔ En
(یعنی) خدا کو جو تمہارا اور تمہارے اگلے باپ دادا کا پروردگار ہے
En
اللہ جو تمہارا اور تمہارے اگلے تمام باپ دادوں کا رب ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 126) {اللّٰهَ رَبَّكُمْ وَ رَبَّ اٰبَآىِٕكُمُ الْاَوَّلِيْنَ …:} الیاس علیہ السلام نے ان کی توجہ اس طرف مبذول کروائی کہ یہ بعل دیوتا کابت تو تم نے خود گھڑا ہے، یہ بے جان بت ہے، جس کے خالق تم خود ہو۔ اس کی حفاظت بھی تم ہی کرتے ہو، پھر اس کی عبادت بھی کرنے لگتے ہو۔ تمھیں تو لازم تھا کہ اس کی عبادت کرتے جس نے تمھیں بنایا ہے، پھر تمھیں صرف بنایا ہی نہیں بلکہ تمھاری پرورش بھی کرتا ہے، تمھارے آبا و اجداد کا بھی وہی خالق و رازق ہے۔ ایسے بہترین خالق کو چھوڑ کر اپنے گھڑے ہوئے بے جان بت کے سامنے سربسجود ہوتے ہوئے تمھیں شرم نہیں آتی!؟ (کیلانی)