اور کیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اس پر قادر نہیں کہ ان جیسے اور پیدا کر دے؟ کیوں نہیں اور وہی سب کچھ پیدا کرنے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔
En
بھلا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، کیا وہ اس بات پر قادر نہیں کہ (ان کو پھر) ویسے ہی پیدا کر دے۔ کیوں نہیں۔ اور وہ تو بڑا پیدا کرنے والا اور علم والا ہے
(آیت 81){ اَوَلَيْسَالَّذِيْخَلَقَالسَّمٰوٰتِوَالْاَرْضَبِقٰدِرٍ …:} یہ دوبارہ زندگی کی تیسری دلیل ہے کہ آسمان اور زمین کو دیکھو، ان میں اللہ تعالیٰ نے جو عجیب و غریب اور عظیم الشّان چیزیں رکھی ہیں، انھیں دیکھو اور ان کے مقابلے میں انسان کو دیکھو، کیا اس عظیم آسمان و زمین کو پیدا کرنے والا اس ضعیف البنیان انسان کو پہلے یا دوبارہ پیدا نہیں کر سکتا؟ پھر اللہ تعالیٰ نے خود ہی جواب دیا، کیوں نہیں! وہ خلّاق بھی ہے اور علیم بھی۔ جب اس میں صفت خلق اور صفت علم پورے کمال کے ساتھ جمع ہیں تو پھر کون سا مُردہ ہے جو وہ زندہ نہ کر سکے؟ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی پیدائش کو انسان کے دوبارہ زندہ کرنے کی دلیل کے طور پر کئی مقامات پر نہایت زوردار انداز میں بیان فرمایا ہے، جیسا کہ فرمایا: «لَخَلْقُالسَّمٰوٰتِوَالْاَرْضِاَكْبَرُمِنْخَلْقِالنَّاسِ»[المؤمن: ۵۷]”یقینا آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا لوگوں کے پیدا کرنے سے زیادہ بڑا (کام) ہے۔“ اور فرمایا: «اَوَلَمْيَرَوْااَنَّاللّٰهَالَّذِيْخَلَقَالسَّمٰوٰتِوَالْاَرْضَوَلَمْيَعْيَبِخَلْقِهِنَّبِقٰدِرٍعَلٰۤىاَنْيُّحْيِۧالْمَوْتٰىبَلٰۤىاِنَّهٗعَلٰىكُلِّشَيْءٍقَدِيْرٌ»[الأحقاف: ۳۳]”اور کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ وہ اللہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور وہ ان کے پیدا کرنے سے نہیں تھکا، وہ اس بات پر قادر ہے کہ ُمردوں کو زندہ کر دے؟ کیوں نہیں! یقینا وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے۔“ اور فرمایا: «ءَاَنْتُمْاَشَدُّخَلْقًااَمِالسَّمَآءُبَنٰىهَا»[النازعات: ۲۷]”کیا پیدا کرنے میں تم زیادہ مشکل ہو یا آسمان؟ اس نے اسے بنایا۔“
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔