ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ يس (36) — آیت 78

وَ ضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّ نَسِیَ خَلۡقَہٗ ؕ قَالَ مَنۡ یُّحۡیِ الۡعِظَامَ وَ ہِیَ رَمِیۡمٌ ﴿۷۸﴾
اور اس نے ہمارے لیے ایک مثال بیان کی اور اپنی پیدائش کو بھول گیا، اس نے کہا کون ہڈیوں کو زندہ کرے گا، جب کہ وہ بوسیدہ ہوں گی؟ En
اور ہمارے بارے میں مثالیں بیان کرنے لگا اور اپنی پیدائش کو بھول گیا۔ کہنے لگا کہ (جب) ہڈیاں بوسیدہ ہوجائیں گی تو ان کو کون زندہ کرے گا؟
En
اور اس نے ہمارے لئے مثال بیان کی اور اپنی (اصل) پیدائش کو بھول گیا، کہنے لگا ان گلی سڑی ہڈیوں کو کون زنده کر سکتا ہے؟ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 78) {وَ ضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّ نَسِيَ خَلْقَهٗ …:} یعنی ہمیں مخلوق کی طرح عاجز سمجھتا ہے کہ جس طرح انسان مُردہ کو زندہ نہیں کر سکتا ہم بھی نہیں کر سکتے اور یہ بھول جاتا ہے کہ خود اسے ہم نے کس چیز سے پیدا کیا۔ کہتا ہے، آخر جب بدن گل سڑ کر ہڈیاں رہ گیا اور وہ بھی پرانی اور بوسیدہ و کھوکھلی تو انھیں دوبارہ کون زندہ کرے گا؟ اگر یہ اپنی پیدائش کو یاد رکھتا تو یہ سوال ہر گز نہ کرتا، کیونکہ جو انسان کو ایک حقیر مردہ قطرے سے پیدا کر سکتا ہے، جب اس کا نام و نشان نہیں تھا، اس کے لیے اسے اس کی بوسیدہ ہڈیوں کو دوبارہ زندہ کرنا کیا مشکل ہے؟ اللہ تعالیٰ نے انسان کو نطفے سے پیدا کرنے کی بات کئی مقامات پر یاد دلائی ہے، سورۂ دہر میں فرمایا: «‏‏‏‏اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ» [الدھر: ۲] بلاشبہ ہم نے انسان کو ایک ملے جلے قطرے سے پیدا کیا۔ اور سورۂ مرسلات میں فرمایا: «‏‏‏‏اَلَمْ نَخْلُقْكُّمْ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِيْنٍ» [المرسلات: ۲۰] کیا ہم نے تمھیں ایک حقیر پانی سے پیدا نہیں کیا؟