(آیت 64،63) {هٰذِهٖجَهَنَّمُالَّتِيْكُنْتُمْتُوْعَدُوْنَ …: ”اِصْلَوْهَا“”صَلِيَيَصْلٰي } (ع) {النَّارَ“} کا اصل معنی آگ سینکنا ہے۔ انھیں یہ بات بطور طنز و استہزا کہی جائے گی۔ (التحریر) اور اس حکم کے ساتھ ہی انھیں دھکیل کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ سورۂ طور میں فرمایا: «يَوْمَيُدَعُّوْنَاِلٰىنَارِجَهَنَّمَدَعًّا (13) هٰذِهِالنَّارُالَّتِيْكُنْتُمْبِهَاتُكَذِّبُوْنَ» [الطور: ۱۳، ۱۴]”جس دن انھیں جہنم کی آگ کی طرف دھکیلا جائے گا، سخت دھکیلا جانا۔ یہی ہے وہ آگ جسے تم جھٹلاتے تھے۔“
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔