ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ يس (36) — آیت 55

اِنَّ اَصۡحٰبَ الۡجَنَّۃِ الۡیَوۡمَ فِیۡ شُغُلٍ فٰکِہُوۡنَ ﴿ۚ۵۵﴾
بے شک جنت کے رہنے والے آج ایک شغل میں خوش ہیں۔ En
اہل جنت اس روز عیش ونشاط کے مشغلے میں ہوں گے
En
جنتی لوگ آج کے دن اپنے (دلچسﭗ) مشغلوں میں ہشاش بشاش ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 55){ اِنَّ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ الْيَوْمَ …:} یہ ذکر کرنے کے بعد کہ ہر ایک کو اس کے عمل ہی کی جزا ملے گی، پہلے اہلِ جنت کی جزا ذکر فرمائی کہ آج کے دن وہ ایک عظیم مشغولیت میں خوش ہوں گے۔ { شُغُلٍ } کا معنی ایسا کام ہے جو انسان کو دوسرے کاموں سے روک دے۔ اس میں تنوین تعظیم کی ہے، مراد یہ ہے کہ وہ اپنی بیویوں سے اور جنت کی دوسری نعمتوں سے لذت اٹھانے میں ایسے مگن ہوں گے کہ انھیں کسی اور چیز کا خیال تک نہیں آئے گا، کیونکہ جنت کی وہ نعمتیں ایسی ہوں گی جو انسان کے وہم و گمان سے بھی بالا ہیں۔ دیکھیے سورۂ سجدہ (۱۷) { الْيَوْمَ } (آج) کے لفظ سے معلوم ہوا کہ اہلِ جنت جلد ہی جنت میں چلے جائیں گے۔