(آیت 51) {وَنُفِخَفِيالصُّوْرِفَاِذَاهُمْمِّنَالْاَجْدَاثِ: ”الْاَجْدَاثِ“”جَدَثٌ“} کی جمع ہے، جیسے {”فَرَسٌ“} کی جمع {”أَفْرَاسٌ“} ہے۔{ ”يَنْسِلُوْنَ“”نَسَلَ“} (ن، ض) {نَسْلاً،نَسَلًاوَنَسَلَانًافِيْمَشْيِهِ“} دوڑنا۔ یعنی صور میں دوسری دفعہ پھونکا جائے گا تو اچانک سب لوگ اپنی قبروں سے نکل کر اپنے رب کی طرف دوڑ رہے ہوں گے۔ (دیکھیے قمر: ۶ تا ۸۔ معارج: ۴۳) صور میں کتنی دفعہ پھونکا جائے گا اور دو دفعہ پھوکنے کے درمیان کتنا عرصہ ہو گا، اس تفصیل کے لیے سورۂ نمل کی آیت (۸۷) کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔