(آیت 4) {عَلٰىصِرَاطٍمُّسْتَقِيْمٍ:} یعنی آپ دین توحید پر ہیں، جو سیدھا اللہ تک پہنچا دیتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَعَلَىاللّٰهِقَصْدُالسَّبِيْلِوَمِنْهَاجَآىِٕرٌ» [النحل: ۹]”اور سیدھا راستہ اللہ ہی پر (جا پہنچتا) ہے اور ان میں سے کچھ (راستے) ٹیڑھے ہیں۔“ یہی بات ان آیات میں فرمائی: «وَاِنَّكَلَتَهْدِيْۤاِلٰىصِرَاطٍمُّسْتَقِيْمٍ (52) صِرَاطِاللّٰهِالَّذِيْلَهٗمَافِيالسَّمٰوٰتِوَمَافِيالْاَرْضِاَلَاۤاِلَىاللّٰهِتَصِيْرُالْاُمُوْرُ» [الشوریٰ: ۵۲، ۵۳]”اور بلاشبہ تو یقینا سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ اس اللہ کے راستے کی طرف کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اسی کا ہے، سن لو!تمام معاملات اللہ ہی کی طرف لوٹتے ہیں۔“
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔