ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ يس (36) — آیت 4

عَلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ؕ﴿۴﴾
سیدھی راہ پر ہے۔ En
سیدھے رستے پر
En
سیدھے راستے پر ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 4) {عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ:} یعنی آپ دین توحید پر ہیں، جو سیدھا اللہ تک پہنچا دیتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ عَلَى اللّٰهِ قَصْدُ السَّبِيْلِ وَ مِنْهَا جَآىِٕرٌ» ‏‏‏‏ [النحل: ۹] اور سیدھا راستہ اللہ ہی پر (جا پہنچتا) ہے اور ان میں سے کچھ (راستے) ٹیڑھے ہیں۔ یہی بات ان آیات میں فرمائی: «‏‏‏‏وَ اِنَّكَ لَتَهْدِيْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ (52) صِرَاطِ اللّٰهِ الَّذِيْ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ اَلَاۤ اِلَى اللّٰهِ تَصِيْرُ الْاُمُوْرُ» ‏‏‏‏ [الشوریٰ: ۵۲، ۵۳] اور بلاشبہ تو یقینا سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ اس اللہ کے راستے کی طرف کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اسی کا ہے، سن لو!تمام معاملات اللہ ہی کی طرف لوٹتے ہیں۔