(آیت 33) ➊ {وَاٰيَةٌلَّهُمُالْاَرْضُالْمَيْتَةُ:} پچھلی آیت میں تمام لوگوں کے اللہ تعالیٰ کے پاس حاضر کیے جانے کا ذکر ہے، جو قیامت کے دن ہو گا، چونکہ کفار اسے نہیں مانتے تھے، اس لیے اب اس کی کئی دلیلیں بیان فرمائیں۔ یہاں {”اٰيَةٌ“} (نشانی) سے مراد دلیل و برہان ہے۔ مردہ زمین سے مراد بنجر اور بے آباد زمین ہے۔ ➋ { اَحْيَيْنٰهَاوَاَخْرَجْنَامِنْهَاحَبًّا …: ”اٰيَةٌ“} میں تنوین تعظیم کے لیے ہے، یعنی ہماری مرُدوں کو زندہ کرنے کی قدرت کی ایک عظیم دلیل یہ ہے کہ ہم بنجر اور قحط زدہ زمین پر بارش برساتے ہیں تو وہ بڑھتی پھولتی اور لہلہاتی ہے، پھر ہم اس سے غلہ پیدا کرتے ہیں جو ان کے کھانے کی چیزوں کا اکثر حصہ ہیں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔