ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ يس (36) — آیت 29

اِنۡ کَانَتۡ اِلَّا صَیۡحَۃً وَّاحِدَۃً فَاِذَا ہُمۡ خٰمِدُوۡنَ ﴿۲۹﴾
وہ نہیں تھی مگر ایک ہی چیخ، پس اچانک وہ بجھے ہوئے تھے۔ En
وہ تو صرف ایک چنگھاڑ تھی (آتشین) سو وہ (اس سے) ناگہاں بجھ کر رہ گئے
En
وه تو صرف ایک زور کی چیﺦ تھی کہ یکایک وه سب کے سب بجھ بجھا گئے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 29) {اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَيْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ خٰمِدُوْنَ:} یعنی فرشتے نے ایک چیخ ماری جس سے ان سب کی زندگی کا شعلہ بجھ گیا۔ ان کے یک لخت ہلاک ہونے کو آگ کے بجھنے کے ساتھ تشبیہ دی ہے۔ ابو العلاء المعری نے کہا ہے:
{وَ كَالنَّارِ الْحَيَاةُ فَمِنْ رَمَادٍ
أَوَاخِرُهَا وَ أَوَّلُهَا دُخَانٗ}
زندگی آگ کی طرح ہے، جس کا آخر راکھ اور ابتدا دھواں ہے۔