ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ يس (36) — آیت 25

اِنِّیۡۤ اٰمَنۡتُ بِرَبِّکُمۡ فَاسۡمَعُوۡنِ ﴿ؕ۲۵﴾
بے شک میں تمھارے رب پر ایمان لایا ہوں، سو مجھ سے سنو۔ En
میں تمہارے پروردگار پر ایمان لایا ہوں سو میری بات سن رکھو
En
میری سنو! میں تو (سچے دل سے) تم سب کے رب پر ایمان ﻻ چکا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 25){ اِنِّيْۤ اٰمَنْتُ بِرَبِّكُمْ فَاسْمَعُوْنِ:} پھر اس مرد ناصح نے لوگوں کو اور اس بستی کی طرف بھیجے گئے پیغمبروں کو، سب کو مخاطب کرتے ہوئے اپنے ایمان لانے کا اور اس پر اپنی استقامت کا اعلان کیا، یعنی میں اس رب پر ایمان لایا ہوں جو میرا ہی نہیں تمھارا بھی رب ہے، سو تم پر لازم ہے کہ میری بات غور سے سنو۔