ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ يس (36) — آیت 10

وَ سَوَآءٌ عَلَیۡہِمۡ ءَاَنۡذَرۡتَہُمۡ اَمۡ لَمۡ تُنۡذِرۡہُمۡ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۰﴾
اور ان پر برابر ہے، خواہ تو انھیں ڈرائے، یا انھیں نہ ڈرائے، وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ En
اور تم ان کو نصیحت کرو یا نہ کرو ان کے لئے برابر ہے وہ ایمان نہیں لانے کے
En
اور آپ ان کو ڈرائیں یا نہ ڈرائیں دونوں برابر ہیں، یہ ایمان نہیں ﻻئیں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 10) {وَ سَوَآءٌ عَلَيْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ۠ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ:} اس کا مطلب یہ نہیں کہ انھیں سمجھانا اور تبلیغ کرنا چھوڑ دیں، بلکہ مطلب یہ ہے کہ جب آپ لوگوں کو سمجھائیں گے اور عام تبلیغ کریں گے تو آپ کو دو قسم کے لوگوں سے سابقہ پیش آئے گا، ایک وہ لوگ جن پر آپ کی تبلیغ کوئی اثر نہیں کرے گی اور وہ اپنے کفر و شرک پر بضد رہیں گے۔ اس آیت میں انھی لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ بقرہ (۶)۔