ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ سبأ (34) — آیت 41

قَالُوۡا سُبۡحٰنَکَ اَنۡتَ وَلِیُّنَا مِنۡ دُوۡنِہِمۡ ۚ بَلۡ کَانُوۡا یَعۡبُدُوۡنَ الۡجِنَّ ۚ اَکۡثَرُہُمۡ بِہِمۡ مُّؤۡمِنُوۡنَ ﴿۴۱﴾
وہ کہیں گے تو پاک ہے، تو ہمارا دوست ہے نہ کہ وہ، بلکہ وہ جنوں کی عبادت کیا کرتے تھے، ان کے اکثر انھی پر ایمان رکھنے والے تھے۔ En
وہ کہیں گے تو پاک ہے تو ہی ہمارا دوست ہے۔ نہ یہ۔ بلکہ یہ جِنّات کو پوجا کرتے تھے۔ اور اکثر انہی کو مانتے تھے
En
وه کہیں گے تیری ذات پاک ہے اور ہمارا ولی تو تو ہے نہ کہ یہ بلکہ یہ لوگ جنوں کی عبادت کرتے تھے، ان میں کے اکثر کا ان ہی پر ایمان تھا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 41) ➊ {قَالُوْا سُبْحٰنَكَ اَنْتَ وَلِيُّنَا مِنْ دُوْنِهِمْ:} یعنی فرشتے بھی عیسیٰ علیہ السلام کی طرح اللہ تعالیٰ کی پاکیزگی بیان کر کے اپنی صفائی پیش کریں گے اور کہیں گے، تو اس سے پاک ہے کہ تیرا کوئی شریک ہو، ہم تو تیرے بندے ہیں اور تو ہی ہمارا ولی ہے، تجھ ہی سے ہماری دوستی ہے، ان سے ہماری کوئی دوستی ہے نہ کوئی تعلق۔
➋ { بَلْ كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ الْجِنَّ …:} یعنی گو یہ بظاہر ہمارے بت بنا کر ہماری عبادت کرتے تھے، لیکن حقیقت میں یہ شیاطین کی بندگی کرتے تھے، کیونکہ انھوں نے ہی ان کو یہ راستہ دکھایا تھا کہ تجھے چھوڑ کر دوسروں کو اپنا معبود سمجھیں، ان کے آگے نذر و نیاز پیش کریں اور اپنی حاجت روائی کے لیے انھیں پکاریں۔ { الْجِنَّ } سے مراد شیاطین ہیں، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا: «اِنْ يَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلَّاۤ اِنٰثًا وَ اِنْ يَّدْعُوْنَ اِلَّا شَيْطٰنًا مَّرِيْدًا» ‏‏‏‏ [النساء: ۱۱۷] وہ اس کے سوا نہیں پکارتے مگر مؤنثوں کو اور نہیں پکارتے مگر سرکش شیطان کو۔