ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ سبأ (34) — آیت 30

قُلۡ لَّکُمۡ مِّیۡعَادُ یَوۡمٍ لَّا تَسۡتَاۡخِرُوۡنَ عَنۡہُ سَاعَۃً وَّ لَا تَسۡتَقۡدِمُوۡنَ ﴿٪۳۰﴾
کہہ تمھارے لیے ایک دن کا طے شدہ وعدہ ہے، جس سے تم نہ ایک گھڑی پیچھے رہو گے اور نہ آگے بڑھو گے۔ En
کہہ دو کہ تم سے ایک دن کا وعدہ ہے جس سے نہ ایک گھڑی پیچھے رہوگے اور نہ آگے بڑھو گے
En
جواب دیجیئے کہ وعدے کا دن ٹھیک معین ہے جس سے ایک ساعت نہ تم پیچھے ہٹ سکتے ہو نہ آگے بڑھ سکتے ہو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 30) {قُلْ لَّكُمْ مِّيْعَادُ يَوْمٍ لَّا تَسْتَاْخِرُوْنَ عَنْهُ سَاعَةً …:} یعنی تمھارے لیے اس کا ایک وقت مقرر کیا گیا ہے جس سے تم نہ ایک گھڑی پیچھے رہو گے کہ تمھیں توبہ اور رجوع کی مہلت ملے، نہ ایک گھڑی آگے ہو گے کہ مقرر وقت سے پہلے عذاب آ جائے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے جتنی مہلت طے کر رکھی ہے وہ پوری ہونے کے بعد ہی عذاب آئے گا، خواہ تم کتنی ہی جلدی مچاتے رہو۔ خلاصہ یہ کہ یہ مت پوچھو کہ وہ وقت کب آئے گا، بلکہ اس کے لیے تیاری کرو۔ مزید دیکھیے سورۂ یونس (۴۹)۔