ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ سبأ (34) — آیت 27

قُلۡ اَرُوۡنِیَ الَّذِیۡنَ اَلۡحَقۡتُمۡ بِہٖ شُرَکَآءَ کَلَّا ؕ بَلۡ ہُوَ اللّٰہُ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۲۷﴾
کہہ دے مجھے وہ لوگ دکھائو جنھیں تم نے شریک بنا کر اس کے ساتھ ملایا ہے۔ ہرگز نہیں، بلکہ وہی اللہ سب پر غالب، بڑی حکمت والا ہے۔ En
کہو کہ مجھے وہ لوگ تو دکھاؤ جن کو تم نے شریک (خدا) بنا کر اس کے ساتھ ملا رکھا ہے۔ کوئی نہیں بلکہ وہی (اکیلا) خدا غالب (اور) حکمت والا ہے
En
کہہ دیجیئے! کہ اچھا مجھے بھی تو انہیں دکھا دو جنہیں تم اللہ کا شریک ٹھہرا کر اس کے ساتھ ملا رہے ہو، ایسا ہرگز نہیں، بلکہ وہی اللہ ہے غالب باحکمت En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 27) ➊ { قُلْ اَرُوْنِيَ الَّذِيْنَ اَلْحَقْتُمْ بِهٖ شُرَكَآءَ:} یعنی اس سے پہلے کہ آخرت میں پہنچ کر ہمارے اور تمھارے درمیان فیصلہ ہو، تم مجھے یہیں بتاؤ کہ تمھارے ان معبودوں میں کون سی ایسی بات ہے جس کی وجہ سے تم انھیں اللہ کا شریک یا اپنا معبود سمجھ رہے ہو اور ان کی حمایت پر بھروسا کر کے اللہ کے عذاب سے بے خوف ہو رہے ہو۔
➋ { كَلَّا بَلْ هُوَ اللّٰهُ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ:} نہیں، یہ ہرگز اس کے شریک نہیں ہو سکتے، بلکہ عبادت کا حق دار صرف اللہ تعالیٰ ہے، جو سب پر غالب اور کمال حکمت والا ہے، جب کہ یہ بے چارے نہ عزیز ہیں نہ حکیم، ان کے پاس بندگی و بے چارگی کے سوا کچھ ہے ہی نہیں۔