ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الأحزاب (33) — آیت 65

خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَبَدًا ۚ لَا یَجِدُوۡنَ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیۡرًا ﴿ۚ۶۵﴾
اس میں ہمیشہ رہنے والے ہمیشہ، نہ کوئی دوست پائیں گے اور نہ کوئی مدد گار۔ En
اس میں ابدا لآباد رہیں گے۔ نہ کسی کو دوست پائیں گے اور نہ مددگار
En
جس میں وه ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ وه کوئی حامی ومددگار نہ پائیں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 65) ➊ {خٰلِدِيْنَ فِيْهَاۤ اَبَدًا:} پھر یہ نہیں کہ کچھ دیر رہ کر اس سے نکل آئیں گے کہ اس خیال سے بھی تکلیف کچھ کم ہو جاتی ہے، بلکہ { خٰلِدِيْنَ فِيْهَاۤ } وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں اور یہ نہ سمجھو کہ { خٰلِدِيْنَ } کا لفظ صرف لمبی مدت کے لیے ہے، بلکہ { اَبَدًا } یعنی یہ ہمیشگی ابدی ہے، کبھی اس سے نکلنے والے نہیں۔
➋ { لَا يَجِدُوْنَ وَلِيًّا وَّ لَا نَصِيْرًا:} عذاب کی ہمیشگی کی مزید تاکید کے لیے فرمایا کہ عذاب میں مبتلا آدمی کو یا تو کوئی دوست سفارش کر کے چھڑوا سکتا ہے، یا مددگار جو زبردستی چھڑوالے، مگر کفار کو وہاں کوئی دوست ملے گا نہ مددگار۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۴۸)۔