سو چکھو، اس وجہ سے کہ تم نے اپنے اس دن کی ملاقات کو بھلا دیا، بے شک ہم نے تمھیں بھلا دیا اور ہمیشگی کا عذاب چکھو، اس کی وجہ سے جو تم کیا کرتے تھے۔
En
سو (اب آگ کے) مزے چکھو اس لئے کہ تم نے اُس دن کے آنے کو بھلا رکھا تھا (آج) ہم بھی تمہیں بھلا دیں گے اور جو کام تم کرتے تھے اُن کی سزا میں ہمیشہ کے عذاب کے مزے چکھتے رہو
(آیت 14) ➊ {فَذُوْقُوْابِمَانَسِيْتُمْلِقَآءَيَوْمِكُمْهٰذَا:} یعنی ان مجرموں سے کہا جائے گا کہ دنیا کے عیش میں گم ہو کر تم نے اس بات کو بالکل بھلا دیا کہ کبھی اپنے رب سے ملاقات بھی ہونی ہے، اب اس بھولنے کا مزا چکھو۔ آیت کے آخر میں اس مزے کی صراحت فرما دی کہ اپنے عمل کی وجہ سے ہمیشگی کا عذاب چکھو۔ ➋ { اِنَّانَسِيْنٰكُمْ:} یعنی جس طرح تم نے ہمیں بھلائے رکھا، آج ہم نے بھی تمھیں بھلا دیا۔ انھیں ہمیشہ عذاب میں چھوڑے رکھنے کو نسیان کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے۔ ورنہ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کا بھولنا ممکن ہی نہیں، جیسا کہ فرمایا: «{ لَايَضِلُّرَبِّيْوَلَايَنْسَى }» [طٰہٰ: ۵۲]”میرا رب نہ بھٹکتا ہے اور نہ بھولتا ہے۔“ اور دیکھیے سورۂ طٰہٰ (۱۲۴ تا ۱۲۶)۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔