ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ لقمان (31) — آیت 9

خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقًّا ؕ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۹﴾
ہمیشہ ان میں رہنے والے۔ اللہ کا وعدہ ہے سچا اور وہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔ En
ہمیشہ اُن میں رہیں گے۔ خدا کا وعدہ سچا ہے اور وہ غالب حکمت والا ہے
En
جہاں وه ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ کا سچا وعده ہے، وه بہت بڑی عزت وغلبہ واﻻ اور کامل حکمت واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 9) ➊ { خٰلِدِيْنَ فِيْهَا:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ کہف (۱۰۷، ۱۰۸)۔
➋ { وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا:} جنت کے وعدے کی ضمانت کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنا نام ذکر فرمایا کہ یہ کسی اَیرے غیرے کا وعدہ نہیں، بلکہ ساری کائنات کے مالک اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے جو سب سے بڑا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ { حَقًّا } کے ساتھ مزید یقین دلایا ہو کہ وعدہ بھی ایسا ہے جو بالکل سچا ہے، جس سے زیادہ سچا کوئی وعدہ ہو ہی نہیں سکتا۔
➌ {وَ هُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ:} اس میں مزید یقین دہانی ہے کہ یہ وعدہ کرنے والا وہ ہے جو سب پر غالب ہے، کوئی قوت اسے وعدہ پورا کرنے سے روک نہیں سکتی اور وہ کمال حکمت والا ہے۔ اس نے یہ وعدہ اندھا دھند اور بے موقع نہیں فرمایا، بلکہ حکمت کے مطابق فرمایا ہے۔