ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ لقمان (31) — آیت 26

لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الۡغَنِیُّ الۡحَمِیۡدُ ﴿۲۶﴾
اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، بے شک اللہ ہی سب سے بے پروا، بے حد خوبیوں والا ہے۔ En
جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے (سب) خدا ہی کا ہے۔ بیشک خدا بےپروا اور سزا وارِ حمد (وثنا) ہے
En
آسمانوں میں اور زمین میں جو کچھ ہے وه سب اللہ ہی کا ہے یقیناً اللہ تعالیٰ بہت بڑا بے نیاز اور سزاوار حمد وﺛنا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 26){ لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ …:} یہ پہلی آیت ہی کا نتیجہ ہے کہ جب آسمانوں کا اور زمین کا خالق اللہ تعالیٰ ہے تو ظاہر ہے کہ ان کا مالک بھی وہی ہے، اور جب مالک وہ ہے تو ثابت ہوا کہ زمین و آسمان کی ہر چیز اپنے وجود اور بقا میں اس کی محتاج ہے اور وہ سب سے غنی ہے، کسی کا محتاج نہیں اور ہر حمد کا مالک ہے۔ دیکھیے اسی سورت کی آیت (۱۲)۔