ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الروم (30) — آیت 60

فَاصۡبِرۡ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقٌّ وَّ لَا یَسۡتَخِفَّنَّکَ الَّذِیۡنَ لَا یُوۡقِنُوۡنَ ﴿٪۶۰﴾
پس صبر کر، یقینا اللہ کا وعدہ سچا ہے اور وہ لوگ تجھے ہرگز ہلکا نہ کر دیں جو یقین نہیں رکھتے۔ En
پس تم صبر کرو بیشک خدا کا وعدہ سچا ہے اور (دیکھو) جو لوگ یقین نہیں رکھتے وہ تمہیں اوچھا نہ بنادیں
En
پس آپ صبر کریں یقیناً اللہ کا وعده سچا ہے۔ آپ کو وه لوگ ہلکا (بے صبرا) نہ کریں جویقین نہیں رکھتے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 60){ فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ …:} اللہ کا یہ وعدہ اس سورت کی آیت (۴۷) میں گزر چکا ہے، فرمایا: «{ وَ كَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِيْنَ اور مومنوں کی مدد کرنا ہم پر لازم ہی تھا۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی مدد کرنا اپنے ذمے لے رکھا ہے، اس لیے آپ صبر کریں اور یہ لوگ جو اللہ تعالیٰ پر اور یومِ آخرت پر یقین نہیں رکھتے آپ کو کسی موقع پر ہلکا نہ کر دیں کہ آپ صبر کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیں، بلکہ خوب مستحکم اور مضبوط ہو کر اپنے موقف پر ڈٹے رہیں۔