ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الروم (30) — آیت 51

وَ لَئِنۡ اَرۡسَلۡنَا رِیۡحًا فَرَاَوۡہُ مُصۡفَرًّا لَّظَلُّوۡا مِنۡۢ بَعۡدِہٖ یَکۡفُرُوۡنَ ﴿۵۱﴾
اور یقینا اگر ہم کوئی ہوا بھیجیں، پھر وہ اس (کھیتی) کو زرد پڑی ہوئی دیکھیں تو یقینا اس کے بعد نا شکری کرنے لگیں۔ En
اور اگر ہم ایسی ہوا بھیجیں کہ وہ (اس کے سبب) کھیتی کو دیکھیں (کہ) زرد (ہو گئی ہے) تو اس کے بعد وہ ناشکری کرنے لگ جائیں
En
اور اگر ہم باد تند چلا دیں اور یہ لوگ انہی کھیتوں کو (مرجھائی ہوئی) زرد پڑی ہوئی دیکھ لیں تو پھر اس کے بعد ناشکری کرنے لگیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 51) {وَ لَىِٕنْ اَرْسَلْنَا رِيْحًا …:} یعنی اگر ہم کوئی سخت سرد یا گرم ہوا بھیج دیں، جس سے ان کے کھیت زرد پڑجائیں تو وہ ناشکری کرنے لگ جائیں گے اور پہلی نعمت سے بھی مکر جائیں گے۔ اس میں کافر اور دنیا دار مسلمان کا حال بیان ہوا ہے کہ جب اس پر اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے تو اس وقت وہ خوش تو بہت ہوتا ہے مگر اللہ کا شکر پھر بھی ادا نہیں کرتا اور جب کوئی نعمت چھنتی ہے تو اس وقت اسے اللہ یاد تو آتا ہے مگر صبر و شکر کے لیے نہیں، بلکہ کفر اور ناشکری کے کلمات کا ہدف بنانے کے لیے۔ نعمت ملنے پر اللہ کا احسان ماننے کے لیے تو قطعاً تیار نہ تھا، زوالِ نعمت پر اور بھی برگشتہ ہو گیا اور اللہ کو کوسنے لگ گیا کہ اس نے ہم پر یہ کیسی مصیبت ڈال دی ہے۔