اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ وہ تمھیں خوف اور طمع کے لیے بجلی دکھاتا ہے اور آسمان سے پانی اتارتا ہے، پھر زمین کو اس کے ساتھ اس کے مردہ ہونے کے بعد زندہ کر دیتا ہے۔ بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں جو سمجھتے ہیں۔
En
اور اسی کے نشانات (اور تصرفات) میں سے ہے کہ تم کو خوف اور اُمید دلانے کے لئے بجلی دکھاتا ہے اور آسمان سے مینھہ برساتا ہے۔ پھر زمین کو اس کے مر جانے کے بعد زندہ (و شاداب) کر دیتا ہے۔ عقل والوں کے لئے ان (باتوں) میں (بہت سی) نشانیاں ہیں
اور اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ (بھی) ہے کہ وه تمہیں ڈرانے اور امیدوار بنانے کے لئے بجلیاں دکھاتا ہے اور آسمان سے بارش برساتا ہے اور اس مرده زمین کو زنده کر دیتا ہے، اس میں (بھی) عقلمندوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں
En
(آیت 24) ➊ { وَمِنْاٰيٰتِهٖيُرِيْكُمُالْبَرْقَخَوْفًاوَّطَمَعًا:} یعنی بجلی کی گرج اور چمک سے امید بندھتی ہے کہ بارش ہوگی اور فصلیں تیار ہوں گی اور دوسری طرف ڈر بھی لگتا ہے کہ کہیں بجلی نہ گر پڑے، یا اتنی زیادہ بارش نہ ہوجائے کہ مکانوں اور فصلوں کو تباہ کر دے اور سب کچھ بہا لے جائے۔ ➋ { وَيُنَزِّلُمِنَالسَّمَآءِمَآءًفَيُحْيٖبِهِالْاَرْضَبَعْدَمَوْتِهَا:} اس میں مرنے کے بعد زندگی پر بھی استدلال ہے اور اس بات پر بھی کہ بارش صرف اللہ کی قدرت اور اس کے حکم سے ہوتی ہے نہ کہ محض مادہ کی ترکیب سے۔ ➌ { اِنَّفِيْذٰلِكَلَاٰيٰتٍلِّقَوْمٍيَّعْقِلُوْنَ:} بارش سے مردہ زمین کے زندہ ہونے کو مرنے کے بعد زندگی کی دلیل کے طور پر قرآن مجید میں متعدد مقامات پر بیان کیا گیا ہے اور اسے عقل والوں کے لیے نشانی قرار دیا گیا جو بات سمجھتے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «{اِعْلَمُوْۤااَنَّاللّٰهَيُحْيِالْاَرْضَبَعْدَمَوْتِهَاقَدْبَيَّنَّالَكُمُالْاٰيٰتِلَعَلَّكُمْتَعْقِلُوْنَ }»[الحدید: ۱۷]”جان لو کہ اللہ زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کرتا ہے، بلاشبہ ہم نے تمھارے لیے آیات کھول کر بیان کر دی ہیں، تاکہ تم سمجھو۔“
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔