ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الروم (30) — آیت 16

وَ اَمَّا الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا وَ لِقَآیِٔ الۡاٰخِرَۃِ فَاُولٰٓئِکَ فِی الۡعَذَابِ مُحۡضَرُوۡنَ ﴿۱۶﴾
اور رہ گئے وہ جنھوں نے کفر کیا اور ہماری آیات اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا تو وہ عذاب میں حاضر رکھے جائیں گے۔ En
اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں اور آخرت کے آنے کو جھٹلایا۔ وہ عذاب میں ڈالے جائیں گے
En
اور جنہوں نے کفر کیا تھا اور ہماری آیتوں کو اور آخرت کی ملاقات کو جھوٹا ٹھہرایا تھا وه سب عذاب میں پکڑ کر حاضر رکھے جائیں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 16){ وَ اَمَّا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا …:} عذاب میں حاضر کیے جانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس سے بھاگنے کی کوشش کریں گے، مگر فرشتے انھیں مارتے پیٹتے، باندھتے گھسیٹتے ہوئے جہنم میں لا حاضر کریں گے اور پھر وہ ہمیشہ اس میں حاضر رکھے جائیں گے، کبھی نکل نہیں سکیں گے۔