(آیت 12) {وَيَوْمَتَقُوْمُالسَّاعَةُيُبْلِسُالْمُجْرِمُوْنَ: ”أَبْلَسَالرَّجُلُ“} جب کوئی آدمی لاجواب ہو کر خاموش ہو جائے اور اسے مشکل سے نکلنے کا کوئی راستہ نہ ملے، مراد نا امید ہونا ہے۔ یعنی جس دن قیامت قائم ہوگی مجرم لوگ نجات سے ناامید ہو جائیں گے، کیونکہ ان کا مجرم ہونا ثابت ہوجائے گا اور انھیں اپنے دفاع میں کہنے کے لیے کوئی بات نہیں ملے گی۔ مجرموں سے مراد یہاں مشرکین ہیں، جیسا کہ اگلی آیت میں آ رہا ہے، گناہ گار مسلمان مراد نہیں ہیں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔