بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور اس حال میں مر گئے کہ وہ کافر تھے، سو ان کے کسی ایک سے زمین بھرنے کے برابر سونا ہرگز قبول نہ کیا جائے گا، خواہ وہ اسے فدیے میں دے۔ یہ لوگ ہیں جن کے لیے درد ناک عذاب ہے اور ان کے لیے کوئی مدد کرنے والے نہیں۔
En
جو لوگ کافر ہوئے اور کفر ہی کی حالت میں مر گئے وہ اگر (نجات حاصل کرنی چاہیں اور) بدلے میں زمین بھر کر سونا دیں تو ہرگز قبول نہ کیا جائے گا ان لوگوں کو دکھ دینے والا عذاب ہو گا اور ان کی کوئی مدد نہیں کرے گا
ہاں جو لوگ کفر کریں اور مرتے دم تک کافر رہیں ان میں سے کوئی اگر زمین بھر سونا دے، گو فدیئے میں ہی ہو تو بھی ہرگز قبول نہ کیا جائے گا۔ یہی لوگ ہیں جن کے لئے تکلیف دینے واﻻ عذاب ہے اور جن کا کوئی مددگار نہیں
En
(آیت 91) اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو کفر کی روش اختیار کرتے ہیں اور کفر ہی کی حالت میں فوت ہو جاتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سب سے ہلکے عذاب والے جہنمی سے پوچھے گا: ”اگر دنیا میں جو بھی چیز ہے تمھاری ہو جائے تو کیا تم اسے (اپنی جان بچانے کے لیے) فدیہ میں دے دو گے؟“ وہ کہے گا: ”ہاں! “ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”میں نے تم سے اس وقت جب تم آدم کی پشت میں تھے اس سے بہت زیادہ آسان بات کا تقاضا کیا تھا کہ شرک نہ کرنا تو میں تمھیں دوزخ میں داخل نہیں کروں گا، لیکن تم نہ مانے اور شرک کرتے رہے۔“[مسلم، صفات المنافقین، باب طلب الکافر الفداء …: ۲۸۰۵، عن أنس رضی اللہ عنہ]
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔
LIVE
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی لائیو نشریات
مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ سے براہ راست لائیو سٹریم دیکھیں