(آیت 90)یعنی یہود پہلے اقرار کرتے تھے کہ یہ یقینًا نبی ہے لیکن جب ان سے معاملہ ہوا تو وہ منکر ہو گئے۔(موضح) اور ایسے لوگ بھی اس کا مصداق ہیں جو اسلام سے مرتد ہونے کے بعد موت کے وقت تک کفر پر قائم رہتے ہیں، ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ حالت نزع میں اگر یہ لوگ توبہ کریں گے بھی تو ان کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّاللّٰهَيَقْبَلُتَوْبَةَالْعَبْدِمَالَمْيُغَرْغِرْ][ترمذی، الدعوات، باب إن اللہ یقبل التوبۃ …: ۳۵۳۷۔ حسنہ الألبانی]”یقینًا اللہ تبارک و تعالیٰ بندے کی توبہ اس وقت تک قبول کرتا ہے جب تک روح حلق تک نہ پہنچے۔“ نیز دیکھیے سورۂ نساء (۱۸) اور {”الضَّآلُّوْنَ“} سے مراد ”کامل درجہ کے گمراہ ہیں۔“ (رازی)
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔
LIVE
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی لائیو نشریات
مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ سے براہ راست لائیو سٹریم دیکھیں