ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ آل عمران (3) — آیت 76

بَلٰی مَنۡ اَوۡفٰی بِعَہۡدِہٖ وَ اتَّقٰی فَاِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۷۶﴾
کیوں نہیں! جو شخص اپنا عہد پورا کرے اور ڈرے تو یقینا اللہ ڈرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ En
ہاں جو شخص اپنے اقرار کو پورا کرے اور (خدا سے) ڈرے تو خدا ڈرنے والوں کو دوست رکھتا ہے
En
کیوں نہیں (مواخذہ ہوگا) البتہ جو شخص اپنا قرار پورا کرے اور پرہیزگاری کرے، تو اللہ تعالیٰ بھی ایسے پرہیز گاروں سے محبت کرتاہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 76) {بَلٰى} (کیوں نہیں) یعنی اس بدعہدی اور خیانت پر ضرور مؤاخذہ ہو گا۔ اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ اور محبوب شخص تو وہی ہے جو اللہ تعالیٰ اور بندوں سے کیا ہوا عہد پورا کرتا ہے (اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کا عہد بھی داخل ہے) اور پھر ہر معاملہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اور اس شریعت کا اتباع کرتا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم لے کر مبعوث ہوئے۔