ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ آل عمران (3) — آیت 69

وَدَّتۡ طَّآئِفَۃٌ مِّنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ لَوۡ یُضِلُّوۡنَکُمۡ ؕ وَ مَا یُضِلُّوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡفُسَہُمۡ وَ مَا یَشۡعُرُوۡنَ ﴿۶۹﴾
اہل کتاب کی ایک جماعت نے چاہا کاش! وہ تمھیں گمراہ کر دیں۔ حالانکہ وہ اپنے سوا کسی کو گمراہ نہیں کر رہے اور وہ شعور نہیں رکھتے۔ En
(اے اہل اسلام) بعضے اہلِ کتاب اس بات کی خواہش رکھتے ہیں کہ تم کو گمراہ کر دیں مگر یہ (تم کو کیا گمراہ کریں گے) اپنے آپ کو ہی گمراہ کر رہے ہیں اور نہیں جانتے
En
اہل کتاب کی ایک جماعت چاہتی ہے کہ تمہیں گمراه کر دیں۔ دراصل وه خود اپنے آپ کو گمراه کر رہے ہیں اور سمجھتے نہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 69) {وَدَّتْ طَّآىِٕفَةٌ …:} اس گروہ کی سازشوں کا ذکر اسی سورت (۷۲، ۷۳) میں آ رہا ہے۔ فرمایا یہ لوگ مسلمانوں کو یہودی بنانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں، مسلمان ان کے بہکاوے میں کیا آئیں گے، وہ تو ایمان میں پختہ ہیں، یہ خود ہی مارے جائیں گے، مگر انھیں اس کا شعور ہی نہیں۔