ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ آل عمران (3) — آیت 60

اَلۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّکَ فَلَا تَکُنۡ مِّنَ الۡمُمۡتَرِیۡنَ ﴿۶۰﴾
یہ حق تیرے رب کی طرف سے ہے، سو تو شک کرنے والوں سے نہ ہو۔ En
(یہ بات) تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے تو تم ہرگز شک کرنے والوں میں نہ ہونا
En
تیرے رب کی طرف سے حق یہی ہے خبردار شک کرنے والوں میں نہ ہونا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 60){اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ …:} یعنی عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں تمھارے سامنے جو حق بیان ہوا ہے یہ تیرے رب کی طرف سے ہے۔ { اَلْحَقُّ } میں الف لام عہد کا ہے جس کا اشارہ گزشتہ بیان کی طرف ہے، اس لیے ترجمہ یہ حق تیرے رب کی طرف سے ہے کیا گیا ہے۔ اور اس میں شک و شبہ کی ہر گز گنجائش نہیں ہے۔ (ابن کثیر) یہ خطاب بظاہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے مگر مقصود تمام مسلمانوں کو تنبیہ کرنا ہے۔ (رازی)