(آیت 60){اَلْحَقُّمِنْرَّبِّكَ …:} یعنی عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں تمھارے سامنے جو حق بیان ہوا ہے یہ تیرے رب کی طرف سے ہے۔ {”اَلْحَقُّ“} میں الف لام عہد کا ہے جس کا اشارہ گزشتہ بیان کی طرف ہے، اس لیے ترجمہ ”یہ حق تیرے رب کی طرف سے ہے“ کیا گیا ہے۔ اور اس میں شک و شبہ کی ہر گز گنجائش نہیں ہے۔ (ابن کثیر) یہ خطاب بظاہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے مگر مقصود تمام مسلمانوں کو تنبیہ کرنا ہے۔ (رازی)
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔