ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ آل عمران (3) — آیت 45

اُردوEn
اِذۡ قَالَتِ الۡمَلٰٓئِکَۃُ یٰمَرۡیَمُ اِنَّ اللّٰہَ یُبَشِّرُکِ بِکَلِمَۃٍ مِّنۡہُ ٭ۖ اسۡمُہُ الۡمَسِیۡحُ عِیۡسَی ابۡنُ مَرۡیَمَ وَجِیۡہًا فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ وَ مِنَ الۡمُقَرَّبِیۡنَ ﴿ۙ۴۵﴾
جب فرشتوں نے کہا اے مریم! بے شک اللہ تجھے اپنی طرف سے ایک کلمے کی بشارت دیتا ہے، جس کا نام مسیح عیسیٰ ابن مریم ہے، دنیا اور آخرت میں بہت مرتبے والا اور مقرب لوگوں سے ہوگا۔
(وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے) جب فرشتوں نے (مریم سے کہا) کہ مریم خدا تم کو اپنی طرف سے ایک فیض کی بشارت دیتا ہے جس کا نام مسیح (اور مشہور) عیسیٰ ابن مریم ہوگا (اور) جو دنیا اور آخرت میں باآبرو اور (خدا کے) خاصوں میں سے ہوگا
جب فرشتوں نے کہا اے مریم اللہ تعالیٰ تجھے اپنے ایک کلمے کی خوشخبری دیتا ہے جس کا نام مسیح عیسیٰ بن مریم ہے جو دنیا اور آخرت میں ذیعزت ہے اور وه میرے مقربین میں سے ہے

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 46،45) ➊ {اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓىِٕكَةُ يٰمَرْيَمُ......:} اس آیت میں عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک کلمہ قرار دیا گیا ہے، اس کی وضاحت آیت(۳۸) کے فوائد میں گزر چکی ہے۔ فرشتوں نے مریم علیہا السلام سے بالمشافہہ یہ بات کی، جیسا کہ سورۂ مریم (۱۷) میں ہے کہ جبریل علیہ السلام انسانی شکل میں ان سے ہم کلام ہوئے۔ { الْمَسِيْحُ } لفظ{ مَسَحَ } سے مشتق ہے، جس کے معنی ہاتھ پھیرنے یا زمین کی مساحت کے ہیں۔ لہٰذا عیسیٰ علیہ السلام کو مسیح یا تو اس لیے کہا گیا ہے کہ وہ بیماروں پر ہاتھ پھیرتے تھے اور وہ تندرست ہو جاتے تھے، یا اس بنا پر کہ آپ ہر وقت زمین میں سفر کرتے رہتے تھے۔ (ابن کثیر)
➋ یہاں مسیح علیہ السلام کے چار اوصاف بیان ہوئے ہیں: (1) { وَجِيْهًا } یعنی بہت وجاہت والا ہو گا۔ چہرہ آدمی کی ذات کا آئینہ ہوتا ہے، اس لیے اونچے مرتبے کو وجاہت کہتے ہیں۔ (2) مقرب لوگوں میں سے ہو گا۔ (3) گہوارے اور ادھیڑ عمر میں یکساں حکیمانہ کلام کرے گا۔ گہوارے میں ان کا کلام سورۂ مریم (۳۰ تا ۳۳) میں نقل ہوا ہے اور ادھیڑ عمر میں کلام کرنے میں ان کے دوبارہ اترنے کی طر ف بھی اشارہ ہے۔ (4) صالحین سے ہو گا۔ صالح وہ ہے جس کے سارے کام درست ہوں، اس لیے سلیمان علیہ السلام جیسے جلیل القدر پیغمبر نے صالح بندوں میں داخل کیے جانے کی دعا کی۔ دیکھیے سورۂ یوسف (۱۰۱) اور سورۂ نمل (۱۹)۔