ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ آل عمران (3) — آیت 25

فَکَیۡفَ اِذَا جَمَعۡنٰہُمۡ لِیَوۡمٍ لَّا رَیۡبَ فِیۡہِ ۟ وَ وُفِّیَتۡ کُلُّ نَفۡسٍ مَّا کَسَبَتۡ وَ ہُمۡ لَا یُظۡلَمُوۡنَ ﴿۲۵﴾
پھر کیا حال ہوگا جب ہم انھیں اس دن کے لیے جمع کریں گے جس میں کوئی شک نہیں اور ہر جان کو پورا دیا جائے گا جو اس نے کمایا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ En
تو اس وقت کیا حال ہوگا جب ہم ان کو جمع کریں گے (یعنی) اس روز جس (کے آنے) میں کچھ بھی شک نہیں اور ہر نفس اپنے اعمال کا پورا پورا بدلہ پائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا
En
پس کیا حال ہوگا جبکہ ہم انہیں اس دن جمع کرینگے؟ جس کے آنے میں کوئی شک نہیں اور ہر شخص اپنا اپنا کیا پورا پورا دیاجائے گا اور ان پر ﻇلم نہ کیاجائے گا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 25) یعنی انھیں جان لینا چاہیے کہ قیامت کے روز جب ہمارے حضور جمع ہوں گے تو ان کا بہت برا حال ہو گا، ان کے یہ من گھڑت عقیدے ان کے کسی کام نہیں آ سکیں گے اور نہ انھیں اپنے بزرگوں سے جھوٹی محبت اور دامن گیری اللہ کے عذاب سے بچا سکے گی۔ کوئی نبی یا ولی اللہ تعالیٰ کی مرضی کے بغیر سفارش بھی نہیں کر سکے گا۔ (ترجمان)