اور وہ لوگ جو اس میں بخل کرتے ہیں جو اللہ نے انھیں اپنے فضل سے دیا ہے، ہر گز گمان نہ کریں کہ وہ ان کے لیے اچھا ہے، بلکہ وہ ان کے لیے برا ہے، عنقریب قیامت کے دن انھیں اس چیز کا طوق پہنایا جائے گا جس میں انھوں نے بخل کیا اور اللہ ہی کے لیے آسمانوں اور زمین کی میراث ہے اور اللہ اس سے جو تم کرتے ہو، پورا با خبر ہے۔
En
جو لوگ مال میں جو خدا نے اپنے فضل سے ان کو عطا فرمایا ہے بخل کرتے ہیں وہ اس بخل کو اپنے حق میں اچھا نہ سمجھیں۔ (وہ اچھا نہیں) بلکہ ان کے لئے برا ہے وہ جس مال میں بخل کرتے ہیں قیامت کے دن اس کا طوق بنا کر ان کی گردنوں میں ڈالا جائے گا۔ اور آسمانوں اور زمین کا وارث خدا ہی ہے۔ اور جو عمل تم کرتے ہوخدا کو معلوم ہے
جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے کچھ دے رکھا ہے وه اس میں اپنی کنجوسی کو اپنے لئے بہتر خیال نہ کریں بلکہ وه ان کے لئے نہایت بدتر ہے، عنقریب قیامت والے دن یہ اپنی کنجوسی کی چیز کے طوق ڈالے جائیں گے، آسمانوں اور زمین کی میراث اللہ تعالیٰ ہی کے لئے اور جو کچھ تم کر رہے ہو، اس سے اللہ تعالیٰ آگاه ہے
En
(آیت 180) ➊ {وَلَايَحْسَبَنَّالَّذِيْنَيَبْخَلُوْنَ …:} اوپر ترغیب جہاد کے سلسلے میں جانی قربانی پر زور دیا ہے اور جو جان بچانے کی خاطر اس سے فرار اختیار کرتے ہیں ان کے حق میں وعید سنائی ہے۔ اب یہاں جہاد میں مالی قربانی پر زور دیا جا رہا ہے اور بخل کرنے والوں کی مذمت کی جا رہی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ جس طرح ان منافقین کو اپنی جان پیاری ہے اسی طرح ان کو اپنا مال بھی پیارا ہے اور جو لوگ مال کے حقوق ادا کرنے سے پہلوتہی کرتے ہیں، قیامت کے دن یہی مال ان کے لیے وبال جان بن جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے کچھ مال دیا ہے اور وہ اس کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتا، قیامت کے دن اس کے مال کو ایک گنجے سانپ کی شکل دے دی جائے گی اور وہ طوق بنا کر اس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا۔ وہ اسے اس کی دونوں باچھوں سے پکڑے گا اور اس سے کہے گا: ”میں ہوں تمھارا مال، میں ہوں تمھارا خزانہ۔“ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ [بخاری، التفسیر، باب: «ولایحسبن الذین یبخلون…» : ۴۵۶۵، عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ] ➋ بخل ان حقوق کو ادا نہ کرنے کا نام ہے جو انسان پر واجب ہوں، مثلاً گھر والوں کا نان و نفقہ، مہمان نوازی، جہاد کی تیاری، زکوٰۃ و عشر وغیرہ۔ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: [وَاَيُّدَائٍاَدْوَأُمِنَالْبُخْلِ]”بخل سے بڑی بیماری کیا ہو سکتی ہے؟“[بخاری، المغازی، باب قصۃ عمان والبحرین: ۴۳۸۳] ➌ {وَلِلّٰهِمِيْرَاثُ …:} یعنی جب زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ ہی کی میراث اور ملکیت ہے تو جس مال کے بظاہر تم وارث بنائے گئے ہو، اس میں بخل کیوں کرتے ہو؟ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”اللہ وارث ہے، آخر تم مر جا ؤ گے اور مال اسی کا ہو رہے گا، تم اپنے ہاتھ سے دو تو ثواب پا ؤ۔“ (موضح)
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔
LIVE
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی لائیو نشریات
مسجد الحرام اور مسجد نبوی سے براہ راست لائیو سٹریم دیکھیں