تو وہ اللہ کی طرف سے عظیم نعمت اور فضل کے ساتھ لوٹے، انھیں کوئی برائی نہیں پہنچی اور انھوں نے اللہ کی رضا کی پیروی کی اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے۔
En
پھر وہ خدا کی نعمتوں اور اس کے فضل کے ساتھ (خوش وخرم) واپس آئے ان کو کسی طرح کا ضرر نہ پہنچا۔ اور وہ خدا کی خوشنودی کے تابع رہے۔ اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے
(نتیجہ یہ ہوا کہ) اللہ کی نعمت وفضل کے ساتھ یہ لوٹے، انہیں کوئی برائی نہ پہنچی، انہوں نے اللہ تعالیٰ کی رضامندی کی پیروی کی، اللہ بہت بڑے فضل واﻻ ہے
En
(آیت 174)اس آیت سے اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث سے کلمہ «حَسْبُنَااللّٰهُوَنِعْمَالْوَكِيْلُ» کی فضیلت ثابت ہوتی ہے کہ کس طرح ابراہیم علیہ السلام، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہر قسم کی برائی سے محفوظ رہ کر اللہ کی نعمت اور فضل کے ساتھ واپس پلٹے اور انھوں نے اللہ کی رضا کی پیروی کی۔ اس لیے ہر مصیبت کے وقت اس وظیفہ کے معنی کا خیال کرتے ہوئے دل اور زبان کو ایک کر کے اسے کثرت سے پڑھنا چاہیے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔