ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ آل عمران (3) — آیت 169

وَ لَا تَحۡسَبَنَّ الَّذِیۡنَ قُتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ اَمۡوَاتًا ؕ بَلۡ اَحۡیَآءٌ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ یُرۡزَقُوۡنَ ﴿۱۶۹﴾ۙ
اور تو ان لوگوں کو جو اللہ کے راستے میں قتل کر دیے گئے، ہرگز مردہ گمان نہ کر، بلکہ وہ زندہ ہیں، اپنے رب کے پاس رزق دیے جاتے ہیں۔ En
جو لوگ خدا کی راہ میں مارے گئے ان کو مرے ہوئے نہ سمجھنا (وہ مرے ہوئے نہیں ہیں) بلکہ خدا کے نزدیک زندہ ہیں اور ان کو رزق مل رہا ہے
En
جو لوگ اللہ کی راه میں شہید کئے گئے ہیں ان کو ہرگز مرده نہ سمجھیں، بلکہ وه زنده ہیں اپنے رب کے پاس روزیاں دیئے جاتے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 169)اس آیت میں منافقین کے اس شبہ کی کہ جہاد میں شامل ہونا خواہ مخواہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے ایک دوسرے طریقے سے تردید کی ہے۔ فرمایا، نہیں بلکہ اس سے دائمی زندگی حاصل ہوتی ہے، شہداء کو اللہ کے ہاں بلند درجے ملتے ہیں، پروردگار کے ہاں انھیں ہر قسم کی نعمت اور لذت حاصل ہوتی ہے، یہ زندگی حقیقی زندگی ہے مگر دنیا والی زندگی نہیں، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، جو تمھاری نگاہ سے اوجھل ہے، جسے برزخ کہتے ہیں اور جو تمھاری سمجھ میں نہیں آ سکتی، فرمایا: «وَ لٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ» [البقرۃ: ۱۵۴] اور لیکن تم (اس زندگی کو) نہیں سمجھتے۔
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کریمہ «وَ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا» سے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان (شہداء) کی روحیں سبز رنگ کے پرندوں کے قالب میں ہوتی ہیں اور ان کے لیے عرشِ الٰہی کے ساتھ قندیلیں معلق ہوتی ہیں، وہ جنت میں جہاں سے چاہتی ہیں کھاتی پیتی ہیں، پھر عرش کے نیچے لٹکی ہوئی انھی قندیلوں میں آکر رہتی ہیں۔ [مسلم، الإمارۃ، باب بیان أن أرواح الشھداء فی الجنۃ…: ۱۸۸۷]