اور کیا جب تمھیں ایک مصیبت پہنچی کہ یقینا اس سے دگنی تم پہنچا چکے تھے تو تم نے کہا یہ کیسے ہوا؟ کہہ دے یہ تمھاری اپنی طرف سے ہے، بے شک اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔
En
(بھلا یہ) کیا (بات ہے کہ) جب (اُحد کے دن کافر کے ہاتھ سے) تم پر مصیبت واقع ہوئی حالانکہ (جنگ بدر میں) اس سے دوچند مصیبت تمہارے ہاتھ سے ان پر پڑچکی ہے توتم چلا اٹھے کہ (ہائے) آفت (ہم پر) کہاں سے آپڑی کہہ دو کہ یہ تمہاری ہی شامت اعمال ہے (کہ تم نے پیغمبر کے حکم کے خلاف کیا) بےشک خدا ہر چیز پر قادر ہے
(کیا بات ہے) کہ جب تمہیں ایک ایسی تکلیف پہنچی کہ تم اس جیسی دو چند پہنچا چکے، تو یہ کہنے لگے کہ یہ کہاں سے آگئی؟ آپ کہہ دیجئے کہ یہ خود تمہاری طرف سے ہے، بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے
En
(آیت 165) ➊ {اَوَلَمَّاۤاَصَابَتْكُمْ …:} یعنی احد میں تمھارے ستر آدمی شہید ہو گئے تو بدر میں تم نے ان کے ستر آدمی قتل اور ستر قید کیے تھے اور قیدی بھی مقتول کے حکم میں ہوتا ہے کہ جب گرفتار کرنے والے کی مرضی ہو اسے قتل کر ڈالے۔ ➋ {هُوَمِنْعِنْدِاَنْفُسِكُمْ:} یعنی تمھارے گناہوں کی وجہ سے، یا خود تمھارے پسند کرنے کی وجہ سے۔ (فتح القدیر) پہلی صورت سے مراد یہ ہے کہ تمھاری اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں کی وجہ سے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی وجہ سے، جس کا ارتکاب تیر اندازوں نے اپنی جگہ کو چھوڑ کر کیا۔ (قرطبی) دوسری صورت میں اس کے معنی یہ ہوں گے کہ تمھارے فدیہ کو اختیار کرنے کی وجہ سے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے قیدیوں کے بارے میں صحابہ کو اختیار دیا تھا کہ اگر تم فدیہ لینا چاہتے ہو تو اس کے بدلے میں آئندہ تمھارے ستر آدمی شہید ہوں گے، چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اسے منظور کر لیا تھا، قرآن نے یہاں «هُوَمِنْعِنْدِاَنْفُسِكُمْ» کے الفاظ سے اسی حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ [ابن کثیر۔ طبری۔ أحمد: 30/1، ۳۱، ح: ۲۰۹]
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔
LIVE
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی لائیو نشریات
مسجد الحرام اور مسجد نبوی سے براہ راست لائیو سٹریم دیکھیں