(آیت 150) {بَلِاللّٰهُمَوْلٰىكُمْ …:} مولیٰ کا معنی مالک، مدد گار اور دوست وغیرہ ہے، یعنی تم کفار کی اطاعت تو اس لیے کرو گے کہ وہ تمھاری کچھ مدد کریں، مگر یہ سراسر جہالت ہے، تمھارا مالک، حامی و ناصر تو اللہ تعالیٰ ہے، اس پر بھروسا رکھو گے تو دنیا کی کوئی طاقت تمھارا بال بیکا نہیں کر سکتی۔ یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے {”خَيْرُالنّٰصِرِيْنَ“} محاورۂ کلام کے اعتبار سے ہے، ورنہ یہ معنی نہیں ہیں کہ کچھ اور ناصرین بھی ہیں جن میں سے اللہ تعالیٰ سب سے بہتر ہے۔ (کبیر)
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔