ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ آل عمران (3) — آیت 135

وَ الَّذِیۡنَ اِذَا فَعَلُوۡا فَاحِشَۃً اَوۡ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ ذَکَرُوا اللّٰہَ فَاسۡتَغۡفَرُوۡا لِذُنُوۡبِہِمۡ ۪ وَ مَنۡ یَّغۡفِرُ الذُّنُوۡبَ اِلَّا اللّٰہُ ۪۟ وَ لَمۡ یُصِرُّوۡا عَلٰی مَا فَعَلُوۡا وَ ہُمۡ یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۳۵﴾
اور وہ لوگ کہ جب کوئی بے حیائی کرتے ہیں، یا اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں تو اللہ کو یاد کرتے ہیں، پس اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے ہیں اور اللہ کے سوا اور کون گناہ بخشتا ہے؟ اور انھوں نے جو کیا اس پر اصرار نہیں کرتے، جب کہ وہ جانتے ہوں۔ En
اور وہ کہ جب کوئی کھلا گناہ یا اپنے حق میں کوئی اور برائی کر بیٹھتے ہیں تو خدا کو یاد کرتے اور اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے ہیں اور خدا کے سوا گناہ بخش بھی کون سکتا ہے؟ اور جان بوجھ کر اپنے افعال پر اڑے نہیں رہتے
En
جب ان سے کوئی ناشائستہ کام ہو جائے یا کوئی گناه کر بیٹھیں تو فوراً اللہ کا ذکر اور اپنے گناہوں کے لئے استغفار کرتے ہیں، فیالواقع اللہ تعالیٰ کے سوا اور کون گناہوں کو بخش سکتا ہے؟ اور وه لوگ باوجود علم کے کسی برے کام پر اڑ نہیں جاتے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 135) ➊ {وَ الَّذِيْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً …:} یعنی اگر بشری تقاضے کے تحت ان سے کسی گناہ کا ارتکاب ہو جاتا ہے تو وہ فوراً اللہ تعالیٰ کو یاد کر کے توبہ و استغفار کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے معافی چاہتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی نے گناہ کیا تو کہا: اے میرے رب! میں نے ایک گناہ کیا ہے، تو مجھے وہ بخش دے۔ تو اللہ عزوجل نے فرمایا: میرے بندے نے ایک گناہ کیا تو اس نے جان لیا کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ بخشتا ہے اور اس پر پکڑتا ہے، سو میں نے اپنے بندے کو بخش دیا۔ پھر اس نے ایک اور گناہ کیا اور کہا: اے میرے رب! میں نے ایک اور گناہ کیا ہے، تو اسے بخش دے۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرے بندے نے جان لیا کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ بخشتا ہے اور اس پر پکڑتا ہے، (فرشتو! گواہ رہو کہ) میں نے اپنے بندے کو بخش دیا، پھر بندہ رکا رہا جتنا اللہ نے چاہا پھر اس نے ایک اور گناہ کیا تو کہا: اے میرے رب! میں نے ایک اور گناہ کیا ہے، تو اسے بخش دے۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرے بندے نے جان لیا کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ بخشتا ہے اور اس پر پکڑتا ہے (فرشتو! گواہ رہو کہ) میں نے اپنے بندے کو بخش دیا، سو وہ جو چاہے کرے۔ [بخاری، التوحید، باب قول اللہ تعالٰی: «یریدون أن یبدلوا کلام اللہ» : ۷۵۰۷۔ مسلم، التوبۃ، باب قبول التوبۃ…: ۲۷۵۸]
➋ {وَ لَمْ يُصِرُّوْا عَلٰى مَا فَعَلُوْا …:} اصرار کے معنی ہیں اڑ جانا اور بے پروائی سے گناہ کرتے جانا۔ نہ ان پر ندامت کا اظہار کرنا اور نہ توبہ کرنا۔ ورنہ اگر کسی شخص سے سچے دل سے توبہ کرنے کے بعد گناہ سرزد بھی ہو جاتا ہے تو اسے اصرار نہیں کہتے، جیسا کہ پچھلے فائدے میں گزرا ہے۔ {وَ هُمْ يَعْلَمُوْنَ} یعنی کسی کام کے گناہ ہونے کا علم ہونے پر اس پر اصرار نہیں کرتے۔ مزید دیکھیے سورۂ نساء (۱۷، ۱۸)۔