ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ آل عمران (3) — آیت 124

اِذۡ تَقُوۡلُ لِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ اَلَنۡ یَّکۡفِیَکُمۡ اَنۡ یُّمِدَّکُمۡ رَبُّکُمۡ بِثَلٰثَۃِ اٰلٰفٍ مِّنَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ مُنۡزَلِیۡنَ ﴿۱۲۴﴾ؕ
جب تو ایمان والوں سے کہہ رہا تھا کیا تمھیں کسی طرح کافی نہ ہوگا کہ تمھارا رب تین ہزار فرشتوں کے ساتھ تمھاری مدد کرے، جو اتارے ہوئے ہوں۔ En
جب تم مومنوں سے یہ کہہ (کر ان کے دل بڑھا) رہے تھے کہ کیا یہ کافی نہیں کہ پروردگار تین ہزار فرشتے نازل کر کے تمہیں مدد دے
En
(اور یہ شکر گزاری باعﺚ نصرت وامداد ہو) جب آپ مومنوں کو تسلی دے رہے تھے، کیا آسمان سے تین ہزار فرشتے اتار کر اللہ تعالیٰ کا تمہاری مدد کرنا تمہیں کافی نہ ہوگا، En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 124تا127) {اِذْ تَقُوْلُ لِلْمُؤْمِنِيْنَ …:} اس کا تعلق یا تو جنگ بدر سے ہے یا جنگ احد سے۔ امام طبری نے پہلی بات کو ترجیح دی ہے، یعنی جب کفار کی تیاری اور کثرتِ تعداد کو دیکھ کر مسلمانوں کے دلوں میں تشویش پیدا ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرشتوں کی مدد کا ذکر کر کے انھیں تسلی دی۔ چنانچہ بدر میں فرشتے نازل ہوئے۔ بدر میں فرشتوں کے نزول کی کیفیت کے لیے دیکھیے سورۂ انفال (۹)۔ (ابن کثیر، شوکانی) بدر کے دن فرشتوں کی تعداد سورۂ انفال میں ایک ہزار ذکر ہوئی ہے، جبکہ یہاں تین ہزار اور پانچ ہزار کا ذکر ہے۔ جواب اس کا یہ ہے کہ پہلے ایک ہزار کا وعدہ ہوا، پھر تین ہزار اور پھر پانچ ہزار کی بشارت ہوئی، ان کا آپس میں کوئی تعارض نہیں۔ (ابن کثیر)
بعض کے نزدیک اس وعدے کا تعلق جنگ احد سے ہے اور انھوں نے کہا ہے، چونکہ مسلمانوں نے جنگ احد میں توکل اور صبر سے کام نہ لیا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے مدد کو روک لیا، ورنہ ظاہر ہے کہ اگر فرشتے نازل ہوتے تو مسلمان شکست نہ کھاتے۔ (ابن جریر)