ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ آل عمران (3) — آیت 111

لَنۡ یَّضُرُّوۡکُمۡ اِلَّاۤ اَذًی ؕ وَ اِنۡ یُّقَاتِلُوۡکُمۡ یُوَلُّوۡکُمُ الۡاَدۡبَارَ ۟ ثُمَّ لَا یُنۡصَرُوۡنَ ﴿۱۱۱﴾
وہ تمھیں ہرگز نقصان نہیں پہنچائیں گے مگر معمولی تکلیف اور اگر تم سے لڑیں گے تو تم سے پیٹھیں پھیر جائیں گے، پھر وہ مدد نہیں کیے جائیں گے۔ En
اور یہ تمہیں خفیف سی تکلیف کے سوا کچھ نقصان نہیں پہنچا سکیں گے اور اگر تم سے لڑیں گے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے پھر ان کو مدد بھی (کہیں سے) نہیں ملے گی
En
یہ تمہیں ستانے کے سوا اور زیاده کچھ ضرر نہیں پہنچا سکتے، اگر لڑائی کا موقعہ آجائے تو پیٹھ موڑ لیں گے، پھر مدد نہ کیے جائیں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 111) {اِلَّاۤ اَذًى:} {اَذًى} میں تنوین تقلیل و تحقیر کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ معمولی تکلیف کیا ہے، مراد زبانی بہتان تراشی اور سازشیں ہیں، مگر میدان میں تمھارے مقابلے میں ٹھہر نہیں سکیں گے، چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ یہود کو مسلمانوں کے مقابلے میں ہر جگہ شکست ہوئی اور رسوائی کا منہ دیکھنا پڑا، بالآخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے انھیں جزیرۂ عرب سے جلاوطن کر دیا۔ یہ آیت اخبار بالغیب اور پیشین گوئی پر مشتمل ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس میں فتح و کامیابی اور نصرت کی بشارت دی ہے۔ اب اگرچہ یہود نصرانیوں کے بل بوتے پر فلسطین کے کچھ حصے اور بیت المقدس پر قابض ہیں، مگر وہ وقت قریب آ رہا ہے کہ جب مسلمانوں کے ساتھ یہود کی جنگ میں پتھر اور درخت بھی مسلمان کو بلا کر کہیں گے: اے مسلم! یہ میرے پیچھے یہودی چھپا ہوا ہے، اسے قتل کر دے۔ [مسلم، الفتن، باب لا تقوم الساعۃ حتی…: ۲۹۲۱، ۲۹۲۲]