(آیت 74) {وَيَوْمَيُنَادِيْهِمْفَيَقُوْلُ …:} توحید کے مزید دلائل ذکر کرنے کے بعد وہی مضمون دہرایا جو اوپر گزرا ہے کہ اللہ تعالیٰ مشرکین کو آواز دے کر کہے گا کہ کہاں ہیں میرے وہ شریک جنھیں تم گمان کرتے تھے!؟ بار بار یہ کہنے کا مقصد انھیں ڈانٹنا، ذلیل و رسوا کرنا اور ان کی اور ان کے شرکاء کی بے بسی کا اور شرک کے باطل ہونے کا اظہار ہو گا۔ پھر کبھی وہ اس بات سے انکار کریں گے کہ وہ کسی شریک کی عبادت کرتے تھے (دیکھیے انعام: ۲۲ تا ۲۴)، کبھی اپنے جھوٹے معبودوں کو پکاریں گے اور کوئی جواب نہ پائیں گے اور کبھی مایوس ہو کر خاموش ہو رہیں گے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔