اور جب وہ لغو بات سنتے ہیں تو اس سے کنارہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمھارے لیے تمھارے اعمال۔ سلام ہے تم پر، ہم جاہلوں کو نہیں چاہتے۔
En
اور جب بیہودہ بات سنتے ہیں تو اس سے منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم کو ہمارے اعمال اور تم کو تمہارے اعمال۔ تم کو سلام۔ ہم جاہلوں کے خواستگار نہیں ہیں
اور جب بیہوده بات کان میں پڑتی ہے تو اس سے کناره کر لیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے عمل ہمارے لیے اور تمہارے اعمال تمہارے لیے، تم پر سلام ہو، ہم جاہلوں سے (الجھنا) نہیں چاہتے
En
(آیت 55) ➊ { وَاِذَاسَمِعُوااللَّغْوَاَعْرَضُوْاعَنْهُ:} یعنی جب کوئی لغو بات سنتے ہیں تو اس سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہیں، جیسا کہ فرمایا: { وَاِذَامَرُّوْابِاللَّغْوِمَرُّوْاكِرَامًا } [الفرقان: ۷۲]”جب بے ہودہ کام کے پاس سے گزرتے ہیں تو باعزت گزر جاتے ہیں۔“ ➋ { وَقَالُوْالَنَاۤاَعْمَالُنَاوَلَكُمْاَعْمَالُكُمْ:} یعنی جب کوئی جاہل بے وقوفی کی کوئی حرکت کرے یا نامناسب بات کرے تو جواب میں ایسی بات یا حرکت نہیں کرتے، بلکہ کہتے ہیں، ہمارے لیے ہمارے عمل ہیں اور تمھارے لیے تمھارے عمل، تم جہالت کرو گے ہم صبر ہی کریں گے۔ مزید دیکھیے سورۂ شوریٰ (۱۵) اور سبا (۲۵، ۲۶)۔ ➌ { سَلٰمٌعَلَيْكُمْ:} دوسری جگہ فرمایا: «{ وَاِذَاخَاطَبَهُمُالْجٰهِلُوْنَقَالُوْاسَلٰمًا }»[الفرقان: ۶۳]”اور جب جاہل لوگ ان سے بات کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں سلام ہے۔“ جاہلوں کو سلام محبت اور دعا کا سلام نہیں، بلکہ جدائی اور قطع تعلق کا سلام ہے۔ بعض اہلِ علم نے فرمایا کہ سلام ایمان والوں کے درمیان ایک دوسرے کے لیے دعا ہے اور جاہلوں کا جہل برداشت کرنے کی علامت ہے۔ ➍ اس سے معلوم ہوا کہ جس جاہل سے توقع نہ ہو کہ سمجھانے سے سمجھے گا تو اس سے کنارا ہی بہتر ہے۔ ➎ { لَانَبْتَغِيالْجٰهِلِيْنَ:} یعنی ہم نہ دوستی اور مجلس کے لیے جاہلوں کو چاہتے ہیں، نہ جہالت میں مقابلے یا گالی گلوچ اور لڑائی جھگڑے کے لیے انھیں چاہتے ہیں، بلکہ دور ہی سے سلام کہہ کر ان سے کنارا کرتے ہیں۔ یہ بات دل میں کہتے ہیں، کیونکہ اونچی کہنے سے تو خواہ مخواہ جھگڑا ہو سکتا ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔