ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ القصص (28) — آیت 52

اَلَّذِیۡنَ اٰتَیۡنٰہُمُ الۡکِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِہٖ ہُمۡ بِہٖ یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۵۲﴾
وہ لوگ جنھیں ہم نے اس سے پہلے کتاب دی وہ اس پر ایمان لاتے ہیں۔ En
جن لوگوں کو ہم نے اس سے پہلے کتاب دی تھی وہ اس پر ایمان لے آتے ہیں
En
جس کو ہم نے اس سے پہلے کتاب عنایت فرمائی وه تو اس پر بھی ایمان رکھتے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 52){ اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِهٖ …:} یعنی درحقیقت یہ لوگ ضد اور عناد میں گرفتار ہیں، ہدایت کے طالب ہی نہیں، کیونکہ اگر یہ فی الواقع ہدایت کے طلب گار ہوتے تو ہمارے پے در پے نصیحت کرنے سے ہدایت پا جاتے، جیسا کہ کئی لوگ جنھیں ہم نے اس سے پہلے کتاب دی، وہ اس قرآن پر ایمان لاتے ہیں، جیسا کہ عبد اللہ بن سلام، سلمان فارسی، تمیم داری، جارود عبدی اور رفاعہ قرظی رضی اللہ عنھم وغیرہ اور وہ عیسائی جو نجاشی کے پاس تھے اور قرآن سن کر رونے لگے تھے، جن کا ذکر سورۂ اعراف (۱۵۹) میں گزر چکا ہے۔