ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ القصص (28) — آیت 49

قُلۡ فَاۡتُوۡا بِکِتٰبٍ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ ہُوَ اَہۡدٰی مِنۡہُمَاۤ اَتَّبِعۡہُ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۴۹﴾
کہہ پھر اللہ کے پاس سے کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے زیادہ ہدایت والی ہو کہ میں اس کی پیروی کروں، اگر تم سچے ہو۔ En
کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو تم خدا کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں (کتابوں) سے بڑھ کر ہدایت کرنے والی ہو۔ تاکہ میں بھی اسی کی پیروی کروں
En
کہہ دے کہ اگر سچے ہو تو تم بھی اللہ کے پاس سے کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے زیاده ہدایت والی ہو میں اسی کی پیروی کروں گا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 49) { قُلْ فَاْتُوْا بِكِتٰبٍ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ …:} یعنی ان سے کہہ دیجیے کہ اگر تم اس بات میں سچے ہو کہ میں اور موسیٰ جادو گر ہیں اور تورات اور قرآن جادو ہیں، تو تم کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو من گھڑت نہ ہو، بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو اور ان دونوں کتابوں سے زیادہ ہدایت والی ہو، تو میں بلا تامل اس کی پیروی کروں گا، کیونکہ مجھے تو ہدایت سے سروکار ہے۔