ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ القصص (28) — آیت 43

وَ لَقَدۡ اٰتَیۡنَا مُوۡسَی الۡکِتٰبَ مِنۡۢ بَعۡدِ مَاۤ اَہۡلَکۡنَا الۡقُرُوۡنَ الۡاُوۡلٰی بَصَآئِرَ لِلنَّاسِ وَ ہُدًی وَّ رَحۡمَۃً لَّعَلَّہُمۡ یَتَذَکَّرُوۡنَ ﴿۴۳﴾
اور بلاشبہ یقینا ہم نے موسیٰ کو کتاب دی، اس کے بعد کہ ہم نے پہلی نسلوں کو ہلاک کر دیا، جو لوگوں کے لیے دلائل اور ہدایت اور رحمت تھی، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ En
اور ہم نے پہلی اُمتوں کے ہلاک کرنے کے بعد موسٰی کو کتاب دی جو لوگوں کے لئے بصیرت اور ہدایت اور رحمت ہے تاکہ وہ نصیحت پکڑیں
En
اور ان اگلے زمانہ والوں کو ہلاک کرنے کے بعد ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ایسی کتاب عنایت فرمائی جو لوگوں کے لیے دلیل اور ہدایت ورحمت ہوکر آئی تھی تاکہ وه نصیحت حاصل کرلیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 43) {وَ لَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَهْلَكْنَا …:} یہاں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے دلائل اور اس پر اعتراضات کا جواب شروع ہوتا ہے۔ ان میں سے ایک اعتراض یہ تھا کہ ہم نے یہ بات پہلے آبا و اجداد میں نہیں سنی، جیسا کہ فرمایا: «{مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِي الْمِلَّةِ الْاٰخِرَةِ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا اخْتِلَاقٌ [صٓ: ۷] ہم نے یہ بات آخری ملت میں نہیں سنی، یہ تو محض بنائی ہوئی بات ہے۔ زیر تفسیر آیت سے پہلے آیت (۳۶) میں گزرا ہے کہ یہی اعتراض فرعون اور اس کے سرداروں نے موسیٰ علیہ السلام پر کیا تھا: «{وَ مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِيْۤ اٰبَآىِٕنَا الْاَوَّلِيْنَ اور ہم نے یہ بات اپنے پہلے باپ دادا میں نہیں سنی۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے لے کر فرعون کی ہلاکت تک کا واقعہ بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ ہم نے پہلی نسلوں قوم نوح، عاد، ثمود اور قوم لوط وغیرہ کو ہلاک کرنے کے بعد جب ہر طرف گمراہی اور ظلمت کا دور دورہ تھا، موسیٰ علیہ السلام کو کتاب دی جو اس وقت کے لوگوں کے لیے ایسے دلائل لیے ہوئے تھی جن سے دل کی آنکھ روشن ہوتی ہے اور جو گمراہی سے نکال کر ہدایت میں لانے والی اور عذاب سے بچا کر رحمت کا مستحق بنانے والی تھی۔ اور یہ اعتراض بے کار تھا کہ ہم نے اپنے پہلے باپ دادا میں یہ بات نہیں سنی، کیونکہ اسی لیے تو موسیٰ علیہ السلام کو مبعوث کیا گیا تھا کہ مدت دراز تک رسول نہ آنے کی وجہ سے لوگوں کو ہدایت اور روشنی کی ضرورت تھی۔ اسی طرح بنی اسماعیل میں ابراہیم اور اسماعیل علیھما السلام کے بعد ہزاروں سال کا وقفہ واقع ہو جانے کی وجہ سے ان کی طرف رسول بھیجنے کی ضرورت تھی۔ بنی اسرائیل کی طرف آنے والے آخری رسول عیسیٰ علیہ السلام کو بھی ایک عرصہ گزر چکا تھا۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا گیا، تاکہ بنی اسماعیل اور بنی اسرائیل میں سے کسی کے پاس یہ عذر نہ رہے کہ ہمارے پاس کوئی آگاہ کرنے والا نہیں آیا۔ یہی بات آگے آیت (۴۷) میں آرہی ہے اور اس سے پہلے سورۂ مائدہ میں بھی گزر چکی ہے، فرمایا: «{ يٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ عَلٰى فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا جَآءَنَا مِنْۢ بَشِيْرٍ وَّ لَا نَذِيْرٍ فَقَدْ جَآءَكُمْ بَشِيْرٌ وَّ نَذِيْرٌ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ [المائدۃ: ۱۹]اے اہل کتاب! بے شک تمھارے پاس ہمارا رسول آیا ہے، جو تمھارے لیے کھول کر بیان کرتا ہے، رسولوں کے ایک وقفے کے بعد، تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمارے پاس نہ کوئی خوش خبری دینے والا آیا اور نہ ڈرانے والا، تو یقینا تمھارے پاس ایک خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا آچکا ہے اور اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔